جمعرات، 21 مئی، 2026

(کیا ہر حاجی مسافرہے ؟ان پر قربانی واجب نہیں؟)

 

  (کیا ہر حاجی مسافر ہیں ؟ان پر قربانی واجب نہیں؟)

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسلئے میں کہ حاجی جو حج کرنے کے لیے مکہ مکرمہ سفر کرتے ہیں وہ مسافر ہیں یا نہیں؟ اور اگر مسافر ہیں تو ان پر قربانی واجب ہے یا نہیں ؟جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی

سائل: محمد نذیر رضوی ممبئ

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب 

حاجی جب اپنے وطنِ اصلی یا وطنِ اقامت سے شرعی مسافت (تقریباً 92 کلومیٹر یا اس سے زیادہ) کے سفر پر نکلے تو وہ شرعاً مسافر شمار ہوتا ہے، لہٰذا دورانِ سفر اس پر قصر نماز کا حکم ہوگا۔ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد اگر وہ پندرہ دن سے کم قیام کی نیت رکھتا ہے تو بھی مسافر ہی رہے گا، اور اگر پندرہ دن یا زیادہ قیام کی نیت کرلے تو مقیم ہوجائے گا، اب قربانی کے حکم کی تفصیل یہ ہے جو حاجی مسافر ہو، اس پر عیدالاضحیٰ کی قربانی (یعنی قربانیِ واجبہ) واجب نہیں ہوتی؛ کیونکہ قربانی واجب ہونے کے لیے مقیم ہونا شرط ہے، ہاں اگر نفلی قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے اس پر اسے ثواب حاصل ہوگا!

قارن اور متمتع پر حج کی قربانی شکرانہ کے طور پر واجب ہے،چنانچہ لباب المناسک اور  اس کی شرح میں ہے:’’(یجب)أی اجماعا (علی القارن والمتمتع  ھدی شکرا لما وفقہ اللہ تبارک و تعالی للجمع بین النسکین فی اشھر الحج بسفر واحد)‘‘ترجمہ: قارن اور متمتع پر قربانی اجماعاً واجب ہے،اس شکرانہ میں کہ اللہ تعالی نے اسے ایک ہی سفر میں اشہر حج کے اندر دونوں عبادتوں کو جمع کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔(لباب المناسک مع شرحہ،فصل فی ھدی القارن والمتمتع،ص 368،مطبوعہ مکۃ المکرمہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی   علیہ رحمۃ اللہ القوی بہار شریعت میں فرماتے ہیں یہ(حج کی ) قربانی وہ نہیں جو بقر عید میں ہوا کرتی ہے کہ وہ  تو مسافر پر اصلاً نہیں اور مقیم مالدار پر واجب ہے اگرچہ حج میں ہو، بلکہ یہ(قربانی ) حج  کا شکرانہ ہے قارِن اور متمتع پر واجب اگرچہ فقیر ہو اور مُفْرِد کے لیے مستحب اگرچہ غنی ہو۔ (بہار شریعت،ج1،ص 1140،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

   مُسافر حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب نہیں ،چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: (تجب ) التضحية (علی حر مسلم مقيم موسر عن نفسہ ) فلا تجب علی حاج مسافر

ترجمہ ہر آزاد مسلمان مقیم صاحب نصاب شخص پر اپنی طرف سے قربانی کرنا  واجب  ہے،لہذا مسافر حاجی پر قربانی واجب نہیں۔(تنویر الابصار مع در مختار،ج9، ص523-524،دارالمعرفہ،بیروت)

بہار شریعت میں ہے: مسافر پر اگرچہ (قربانی)واجب نہیں مگر نفل کے طور پر کرے تو کرسکتا ہے، ثواب پائے گا۔ حج کرنے والے جو مسافر ہوں اُن پر قربانی واجب نہیں اور مقیم ہوں تو واجب ہے۔ (بہار شریعت،ج 3،ص 332،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

 صورتِ مسئولہ میں اگر حاجی سفر کی حالت میں ہے اور مکہ میں پندرہ دن اقامت کی نیت نہیں کی، تو اس پر عید کی واجب قربانی نہیں؛ البتہ اگر حجِ تمتع یا قران کر رہا ہے تو ہدی واجب ہوگی۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ 

 محمد مدثر جاوید رضوی 

 مقام۔ دھانگڑها، بہادر گنج 

 ضلع۔ کشن گنج، بہار








ایک تبصرہ شائع کریں

Whatsapp Button works on Mobile Device only